محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے
تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے
تیری زلفوں کی شب میں کھو کے اپنا
یہ دل پھر کبھی بے غم نہ ہوں گے
فراز اب کے بچھڑے تو شاید
ملاقاتوں کے موسم ہم نہ ہوں گے