عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب
کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے
کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی