ایک اجنبی شہر میں رات بتانی ہے
تیری یاد کو دل میں سجانی ہے
تیری یاد کو دل میں سجانی ہے
تیرے بغیر یہ رات بڑی لمبی ہے
صبح ہونے تک آنکھ جگانی ہے
پروین تجھے کیا پتہ درد کا
ہر پل دل میں آگ بھڑکانی ہے