Shayari

صبح ہونے تک

Sad
ایک اجنبی شہر میں رات بتانی ہے
تیری یاد کو دل میں سجانی ہے

تیرے بغیر یہ رات بڑی لمبی ہے
صبح ہونے تک آنکھ جگانی ہے

پروین تجھے کیا پتہ درد کا
ہر پل دل میں آگ بھڑکانی ہے