پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
عشق کی راہ میں ہر پتھر سے ٹھوکر کھائی ہے
کون کہے کہ دلِ دیوانہ اپنا سہارا جانے ہے
رات کے پردے میں چھپ کر رویا ہوں اکیلا
صبح کی آنکھ بھی میرے آنسوؤں کا اشارا جانے ہے